Articles / Foundations of Sufism
تصوف کی مختصر تاریخ
انسان جتنا قدیم
خواجہ شمس الدین عظیمی علم کی دو قسمیں بتاتے ہیں (ص 43): ظاہری علم معیشت اور معاشرت کے کام آتا ہے، اور باطنی علم تصوف ہے۔ ان کے نزدیک تصوف کا آغاز اس وقت ہوا جب اللہ نے فرشتوں سے فرمایا: «میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں» (سورۃ البقرہ: 30)، اور حضرت آدم علیہ السلام کو تمام اشیاء کے نام سکھا دیے (سورۃ البقرہ: 31)۔ یہ باطنی علم حضرت آدم کی اولاد کے لیے ان کی میراث ہے، اسی لیے مصنف کے بقول نوعِ انسانی کے پہلے صوفی حضرت آدم علیہ السلام ہیں۔
ان کے بعد آنے والے ہر پیغمبر نے یہی بنیادی باتیں سکھائیں: ایک اللہ کی عبادت، بھائی چارے کے ساتھ رہنا، معاف کرنا، اور کبھی کسی کی حق تلفی نہ کرنا۔ کتاب کے مطابق جو بھی ان تعلیمات پر عمل کرتا ہے وہ صوفی ہے (ص 43–44)۔
قرآن میں راستے کے نشان
باطنی راستے کو سمجھانے کے لیے کتاب قرآن کے کئی واقعات کا حوالہ دیتی ہے:
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پہلے ایک ستارے، پھر چاند اور پھر سورج کو دیکھا؛ ہر ایک کے ڈوبنے پر اس سے منہ موڑا، اور آخرکار آسمانوں اور زمین کے خالق کی طرف رخ کیا۔ «اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی سلطنت دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں» (سورۃ الانعام: 75) (ص 46)۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ کے ایک ایسے بندے سے ملنے نکلے جنہیں باطنی علم عطا ہوا تھا، اور جنہیں روایات میں حضرت خضر علیہ السلام کہا گیا ہے۔ کشتی، لڑکے اور دیوار کا واقعہ بتاتا ہے کہ اللہ کے نظام میں ایسے اہلِ باطن بھی ہیں جو نبی نہیں ہوتے (سورۃ الکہف: 60–82؛ ص 47–48)۔
حضرت مریم علیہا السلام کو اللہ نے برگزیدہ کیا، پاکیزہ بنایا اور دنیا کی عورتوں پر فضیلت دی۔ کتاب ان کے واقعے سے یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ اللہ نے خواتین کو بھی مردوں کی طرح روحانی صلاحیتیں عطا کی ہیں (ص 48–49)۔
رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام
مسلمانوں کے لیے اس راستے کا کامل نمونہ رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہے: آپ کی راتوں کی عبادت، غارِ حرا میں آپ کی خلوت، اور سب سے بڑھ کر آپ کا اخلاق۔ کتاب میں مرد و خواتین صحابہ کی باطنی زندگی پر ایک پورا باب ہے، جس میں حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی، حضرت خدیجۃ الکبریٰ، حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت فاطمہ الزہرا اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہم شامل ہیں (ص 146–151)۔
ابتدائی بزرگ
اسلام کی ابتدائی صدیوں میں بصرہ، کوفہ اور بغداد میں ایسے مرد اور خواتین جمع ہوئے جو اپنی عبادت اور تقویٰ میں مشہور تھے:
حضرت حسن بصریؒ (وفات 728ء)، جو زہد اور خشیتِ الٰہی کے لیے مشہور ہیں۔ بعد کے بہت سے سلاسل کے شجرے انہی سے گزرتے ہیں۔
حضرت رابعہ بصریہؒ (وفات 801ء)، جنہوں نے سکھایا کہ اللہ سے اس کی ذات کی خاطر محبت کی جائے، دوزخ کے ڈر یا جنت کی امید میں نہیں۔
حضرت جنید بغدادیؒ (وفات 910ء)، جنہیں اپنے زمانے کے صوفیاء کا سرخیل مانا جاتا ہے اور جنہوں نے راستے کو مضبوطی سے شریعت کی حدود میں رکھا۔
حضرت ابوبکر شبلیؒ (وفات 946ء)، جو پہلے گورنر رہ چکے تھے۔ کتاب بتاتی ہے کہ حضرت جنیدؒ نے راہِ سلوک شروع کرنے سے پہلے عہدے کا تکبر توڑنے کے لیے انہیں بغداد کی گلیوں میں بھیک مانگنے کا حکم دیا (ص 174)۔
حضرت علی ہجویری، داتا گنج بخشؒ (گیارہویں صدی عیسوی)، جو لاہور میں مقیم ہوئے اور تصوف پر فارسی کی ابتدائی کتابوں میں سے ایک «کشف المحجوب» تصنیف کی۔
امام غزالیؒ (1058–1111ء)، جو بغداد کے سب سے بڑے عالم ہوتے ہوئے تدریس چھوڑ کر تقریباً دس برس اس راستے پر چلے۔ بعد میں انہوں نے لکھا کہ اگر یہ تبدیلی نہ آتی تو ان کی زندگی برباد ہو جاتی (ص 175)۔
سلاسل
بارہویں صدی عیسوی سے بزرگوں کی تعلیمات سلاسل کی صورت میں منظم ہوئیں؛ ہر سلسلہ مشائخ اور مریدوں کا ایک شجرہ ہے جو رسول اللہ ﷺ تک پہنچتا ہے۔ کتاب کے مطابق دنیا میں تقریباً دو سو سلاسل ہیں (ص 173)۔ خانقاہوں میں سالک کی تربیت یوں ہوتی ہے کہ وہ نماز، عبادت اور مراقبے کے ذریعے اللہ کو پہچانے، اور خدمتِ خلق اور عفو و درگزر کو زندگی کا مقصد بنا لے۔ برصغیر میں چار سلاسل سب سے زیادہ معروف ہیں:
سلسلۂ قادریہ: گیلان میں پیدا ہونے والے اور بغداد میں مدفون شیخ عبدالقادر جیلانیؒ (1077–1166ء) سے منسوب۔
سلسلۂ چشتیہ: ہرات کے قریب قصبہ چشت سے منسوب، جسے ہندوستان میں اجمیر کے خواجہ معین الدین چشتیؒ (وفات 1236ء) لائے۔
سلسلۂ سہروردیہ: شیخ شہاب الدین عمر سہروردیؒ (وفات 1234ء) سے منسوب؛ ان کے مرید حضرت بہاء الدین زکریاؒ نے ملتان کو اس کا مرکز بنایا۔
سلسلۂ نقشبندیہ: بخارا کے خواجہ بہاء الدین نقشبندؒ (وفات 1389ء) سے منسوب، جو ذکرِ خفی اور دل کی نگرانی کے لیے مشہور ہے۔
اسلام کیسے پھیلا
کتاب صوفیاء کی خدمات کو واضح طور پر بیان کرتی ہے (ص 172)۔ شیخ عبدالقادر جیلانی، داتا گنج بخش، خواجہ معین الدین چشتی، بہاء الدین زکریا، لعل شہباز قلندر اور شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمہم اللہ جیسے اولیاء کے ذریعے توحید کا پیغام پاکستان، ہندوستان، برما، ملائیشیا، انڈونیشیا، افریقہ، ایران، عراق، عرب اور چین تک پہنچا۔ انہوں نے کسی پر جبر نہیں کیا: لوگوں نے ان کا اخلاق اور کردار دیکھا اور بہت سے لوگ اسلام لے آئے (ص 66)۔
ماخذ: خواجہ شمس الدین عظیمی، «احسان و تصوف» (خواجہ شمس الدین عظیمی ریسرچ سوسائٹی)، ص 43–49، 66 اور 146–175۔ ابتدائی بزرگوں اور سلاسل کی تاریخیں معروف تاریخی ماخذ کے مطابق ہیں۔
Spotted a mistake? Suggest a correction
Read more
- Who is a Sufi?
Foundations of SufismEnglish3 min read
- صوفی کون ہے؟
Foundations of Sufismاردو3 min read