تصوف کیا ہے؟
ایک راستہ، دو نام
«تصوف» عربی اور اردو کا لفظ ہے، اور انگریزی میں اسے Sufism کہا جاتا ہے۔ دونوں ایک ہی چیز کا نام ہیں: اسلام کا وہ باطنی پہلو جس کا مقصد صرف اللہ کے بارے میں جاننا نہیں، بلکہ خود اللہ کو پہچاننا ہے۔
روح کو پاکیزگی دینے والا علم
خواجہ شمس الدین عظیمی تصوف کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ یہ روح کو پاکیزگی بخشنے اور مخلوق کو خالق کے قریب کرنے والا علم ہے (ص 35)۔ اس راستے کے مسافر کو باطنی کیفیات اور مشاہدات عطا ہوتے ہیں، وہ دل کی آنکھ سے اللہ کا ادراک کرتا ہے اور اس کے قرب سے سرفراز ہوتا ہے۔
مصنف کے مرشد قلندر بابا اولیاء رحمۃ اللہ علیہ نے تصوف کو وہ اعمال و اشغال قرار دیا جو جسمانی عبادات کے ساتھ ساتھ روح کی پہچان تک لے جاتے ہیں (ص 35)۔ نماز، روزہ اور نیک اعمال جسم اور کردار کو پاک کرتے ہیں؛ غور و فکر توجہ کو اندر کی طرف موڑتا ہے، یہاں تک کہ انسان اپنی روح سے واقف ہو جاتا ہے۔ چونکہ روح اللہ کے امر سے ہے (سورۃ بنی اسرائیل: 85)، اس لیے اسے پہچاننا کُل کی ایک جھلک پانا ہے۔
چار بنیادیں
کتاب تصوف کی چار بنیادیں بتاتی ہے: محبت، توحید، تقویٰ اور عرفانِ نفس (ص 35)۔ اور قرآن کی تعلیمات کا خلاصہ ایک جملے میں بیان کرتی ہے: اللہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور وہ اپنی مخلوق سے محبت کرتا ہے۔
«وہی اول ہے اور وہی آخر، وہی ظاہر ہے اور وہی باطن، اور وہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے» (سورۃ الحدید: 3)۔
«بے شک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جو نیکی کرنے والے ہیں» (سورۃ النحل: 128)۔
«اور ایمان والے اللہ سے سب سے بڑھ کر محبت کرتے ہیں» (سورۃ البقرہ: 165)۔
مصنف کے بقول تصوف عشق و محبت کا سمندر ہے، اور محبت ہی مقصود تک پہنچنے کا ذریعہ ہے (ص 36)۔
شریعت اور طریقت ساتھ ساتھ
تصوف شریعت سے الگ کوئی چیز نہیں۔ کتاب اس تعلق کو ایک مثال سے سمجھاتی ہے (ص 37)۔ ایک سلطنت میں دو آدمی رہتے ہیں، دونوں قانون کی پابندی کرتے ہیں اور دونوں اچھے شہری ہیں۔ مگر ان میں سے ایک کو بادشاہ کا قرب بھی حاصل ہے۔ دونوں اچھے ہیں، لیکن جسے قرب حاصل ہے اس کا درجہ بلند ہے۔
اسی طرح شریعت کا پابند شخص نماز پڑھتا ہے، برائی سے بچتا ہے اور غلطیوں پر معافی مانگتا ہے۔ صوفی بھی یہ سب کرتا ہے، اور اس کے ساتھ قرب کی آرزو بھی رکھتا ہے: وہ نماز میں محسوس کرتا ہے کہ اللہ ہر شے کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اور بقولِ قرآن «ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں» (سورۃ ق: 16)۔
تزکیۂ نفس
تصوف کا طریقۂ کار تزکیۂ نفس ہے، یعنی نفس کو پاک کرنا (ص 38)۔ قرآن اسے رسول اللہ ﷺ کے فرائض میں شمار کرتا ہے: «وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا، جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے، ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے» (سورۃ الجمعہ: 2)۔ سورۃ المزمل کی ابتدائی آیات، یعنی رات کو اٹھنا، قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا اور سب سے کٹ کر اپنے رب کی طرف متوجہ ہو جانا، اس کے رہنما اصول دیتی ہیں۔ اولیاء اللہ نے انہی آیات پر تصوف کے اصول مرتب کیے، اور سالک کو جو بھی عمل بتایا جاتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے (ص 39)۔
عمل کیسے ہوتا ہے
کتاب میں بتائے گئے اعمال و اشغال میں یہ شامل ہیں (ص 39):
حمد و تسبیح کے ساتھ اللہ کا ذکر؛
یکسوئی، تلاش اور غور و فکر؛
نماز میں اللہ سے تعلق قائم کرنا؛
اللہ کا قرب پانے کے لیے روزے رکھنا؛
پاک نفس سے پیدا ہونے والا تقویٰ؛
مراقبہ: ہر طرف سے ذہن ہٹا کر اپنے اندر کی کھوج لگانا؛
غصے پر قابو پانا اور عفو و درگزر کی عادت پختہ کرنا۔
مذہب کی روح
مصنف لکھتے ہیں: «تصوف مذہب کی روح ہے» (ص 65)۔ مذہب انسان میں یہ یقین پیدا کرتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے؛ مذہب ہی اسے صراطِ مستقیم پر قائم رکھتا ہے اور مساوات و انصاف سکھاتا ہے۔ تصوف اس یقین کو جیتے جاگتے تجربے میں بدل دیتا ہے۔
ماخذ: خواجہ شمس الدین عظیمی، «احسان و تصوف» (خواجہ شمس الدین عظیمی ریسرچ سوسائٹی)، ص 35–39 اور 65۔
کوئی غلطی نظر آئی؟ تصحیح تجویز کریں
مزید پڑھیں
- Who is a Sufi?
تصوف کی بنیادیںEnglish3 منٹ کا مطالعہ
- صوفی کون ہے؟
تصوف کی بنیادیںاردو3 منٹ کا مطالعہ