مولانا جلال الدین رومیؒ (1207–1273ء)
ایک عالم کے بیٹے
جلال الدین محمد 1207ء میں وسطی ایشیا کے شہر بلخ کے قریب پیدا ہوئے۔ ان کے والد بہاء الدین ولدؒ ایک معزز عالم، فقیہ اور باطنی راستے کے استاد تھے۔ تقریباً 1215–1220ء میں، منگول حملوں سے کچھ پہلے، یہ خاندان اپنا وطن چھوڑ کر بغداد اور مکہ مکرمہ کے راستے مغرب کی طرف روانہ ہوا۔ تقریباً 1228ء میں وہ قونیہ میں آباد ہو گئے، جو اس وقت روم کے سلجوق سلاطین کا دارالحکومت تھا۔ «رومی» کی نسبت اسی «روم» یعنی اناطولیہ سے ہے۔ ترکی میں انہیں صرف «مولانا» کہا جاتا ہے۔
والد کی وفات کے بعد جلال الدین ان کی جگہ درس و وعظ کی مسند پر بیٹھے۔ نو برس تک انہوں نے اپنے والد کے شاگرد سید برہان الدین محقق ترمذیؒ سے تربیت پائی۔ عمر کی چوتھی دہائی کے اواخر تک وہ فقہ اور دینیات کے ایک معزز عالم بن چکے تھے، جن کے بہت سے شاگرد تھے۔
شمس تبریزیؒ سے ملاقات
15 نومبر 1244ء کو ایک سیلانی درویش، شمس الدین تبریزیؒ، قونیہ آئے۔ اس ملاقات نے رومیؒ کی زندگی بدل دی۔ دونوں نے کئی مہینے صحبت اور گفتگو میں گزارے، اور وہ عالمِ دین اللہ کے ایسے عاشق بن گئے جن کے جذبات شاعری بن کر بہہ نکلے۔
شمسؒ قونیہ چھوڑ کر چلے گئے، پھر انہیں واپس لایا گیا، اور دسمبر 1248ء میں وہ ایسے غائب ہوئے کہ پھر کبھی دکھائی نہ دیے۔ رومیؒ کا غم، اور یہ دریافت کہ جو کچھ وہ شمس میں ڈھونڈ رہے تھے وہ خود ان کے اندر موجود تھا، «دیوانِ شمسِ تبریزی» کی صورت میں ظاہر ہوا: غزلوں کا ایک عظیم مجموعہ، جس میں انہوں نے اپنے دوست کا نام بطور تخلص استعمال کیا۔
مثنوی
اپنی زندگی کے آخری برسوں میں، اپنے مرید حسام الدین چلبیؒ کی فرمائش پر، رومیؒ نے «مثنوی معنوی» تصنیف کی: چھ دفتر اور پچیس ہزار سے زیادہ اشعار، جن میں حکایات، تعلیمات اور قرآن و حدیث کی تشریح ہے، اور جو تقریباً بارہ برس میں لکھوائے گئے۔ مثنوی کا آغاز بانسری کی فریاد سے ہوتا ہے، جو اپنے نیستان سے کاٹ لی گئی ہے اور جدائی کا دکھ سناتی ہے: یہ روح ہے جو اپنی اصل کی طرف لوٹنے کو بے تاب ہے۔
مثنوی عالمِ اسلام کی سب سے زیادہ محبوب کتابوں میں سے ایک بن گئی۔ اس کے بارے میں یہ مصرع مشہور ہے، جو عام طور پر مولانا عبدالرحمٰن جامیؒ سے منسوب کیا جاتا ہے: «ہست قرآن در زبانِ پہلوی»، یعنی یہ فارسی زبان میں قرآن ہے۔ رومیؒ کے ملفوظات بھی ایک نثری کتاب «فیہ ما فیہ» میں جمع کیے گئے۔
وصال کی رات
رومیؒ نے 17 دسمبر 1273ء کو قونیہ میں وفات پائی۔ ان کے ماننے والوں نے اس دن کو موت نہیں بلکہ «شبِ عروس» کہا، یعنی وہ رات جب روح اپنے محبوب سے جا ملتی ہے۔ یہ دن آج بھی ہر دسمبر قونیہ میں منایا جاتا ہے، اور سبز گنبد کے نیچے ان کا مزار دنیا بھر سے زائرین کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔
ان کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے سلطان ولدؒ اور ان کے پیروکاروں نے سلسلۂ مولویہ کی بنیاد رکھی، جو اپنے «سماع» کے لیے مشہور ہے: موسیقی کے ساتھ گردش کرتے ہوئے ادا کی جانے والی وہ رسم جو ذکر کی ایک صورت ہے۔ 2005ء میں یونیسکو نے سماعِ مولویہ کی رسم کو انسانیت کے زبانی اور غیر مادی ورثے کا شاہکار تسلیم کیا۔
برصغیر میں رومیؒ
رومیؒ کا اثر اناطولیہ سے بہت دور تک پہنچا۔ علامہ محمد اقبالؒ نے انہیں اپنا روحانی رہنما، «پیرِ رومی»، کہا اور خود کو «مریدِ ہندی»، یعنی ان کا ہندوستانی مرید، کہا؛ «بالِ جبریل» کی نظم «پیر و مرید» انہی دونوں کا مکالمہ ہے۔ اقبالؒ کے نزدیک رومیؒ نے یہ دکھایا کہ عشق اور عقل، ایمان اور عمل ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں۔
ان کا پیغام
رومیؒ کی شاعری کا مرکز اللہ سے محبت ہے، اور اللہ کی خاطر اس کی مخلوق سے محبت۔ انسان کی روح وہ بانسری ہے جو اپنے نیستان سے کاٹ لی گئی ہے، اور اس کی ساری بے قراری گھر لوٹنے کی آرزو ہے۔ واپسی کا راستہ وہی ہے جو ہر دور کے صوفیاء کا راستہ رہا ہے: ذکر، دل کی پاکیزگی، خدمتِ خلق اور محبت۔
لاحظت خطأً؟ اقترح تصحيحًا
اقرأ أيضًا
- Who is a Sufi?
أسس التصوفEnglishقراءة في 3 دقائق
- صوفی کون ہے؟
أسس التصوفاردوقراءة في 3 دقائق